ہمارا درد سہنا چاہتی ہے

(سرفراز تبسم)

غزل
ہمارا درد سہنا چاہتی ہے
زمیں خاموش رہنا چاہتی ہے
فلک سہما ہوا اوندھا پڑا ہے
نہیں خلقت یہ گہنا چاہتی ہے
سمندر رو کے ہم سے پوچھتا ہے
ندی کیوں درد پہنا چاہتی ہے
ہمارے لوگ مرتے دیکھ کر اب
ہوا غمگین رہنا چاہتی ہے
پرندے اور شجر بھی رو رہے ہیں
نمی آنسو میں بہنا چاہتی ہے

کہ خلقت سر جھکائے اب کھڑی ہے
خدا سے کچھ یہ کہنا چاہتی ہے

Comments are closed.