اک روز بند ہوگا یہ ظلمت کا باب دیکھ

(ماجد حسن)

اک روز بند ہوگا یہ ظلمت کا باب دیکھ
ابھرے گا آسماں سے نیا آفتاب دیکھ

پھر سے تجھے یہ سارا زمانہ حسیں لگے
کنج چمن میں پھر کوئی تازہ گلاب دیکھ

چل آج دوستوں کو دکھاتے ہیں آئینہ
چکتا کریں گے سارا پرانا حساب دیکھ

جن سے تھی راہ و رسم وہ اوجھل سے ہوگئے
ہر ایک کر رہا ہے یہاں اجتناب دیکھ

لایا ہوں آئینے سے یہ صورت نکال کے
میری پسند دیکھ مرا انتخاب دیکھ
بزم طرب رہی نہ مغنی کوئی رہا
خاموش ہوگئے ہیں یہ چنگ و رباب دیکھ

Comments are closed.