وباء کے دن ہیں

(رفاقت حسین بابر)

وباء کے دن ہیں اے پیارے لوگو
گھرئوں میں اپنے قیام کرلو!
وُہ مائیں جِن کی التجائوں سے
عرش مالک کا ہِل گیا ہے
فرش پہ گونجتی ہوئی صدائوں کا
کُچھ تو تُم بھی احترام کرلو!
گھرئوں میں اپنے قیام کرلو!
جب تُمھیں کہتے ہیں تُمھارے مسیحا
کہ فاصلوں میں ہی بہتری ہے
تو دور رِہ کر بھی پاس رہنے کا
جو میری مانو تو اہتمام کر لو!
گھرئوں میں اپنے قیام کرلو!
اُمید رکھو میرے سا رے لوگو
کہ اس وباء کے ٹَلنے میں
کُچھ ہی دیر باقی ہے
یہ سیاہ رات ڈَھلنے میں
کُچھ ہی دیر باقی ہے
سور ج کے نکلنے میں
کُچھ ہی دیر باقی ہے
تو جو گھڑیاں ہیں میسر آرام کرلو!
گھرئوں میں اپنے قیام کر لو!!!

Comments are closed.