گھر کی دنیا میں گزرتے ہوئے دن

(محمود شام)

غزل
گھر کی دنیا میں گزرتے ہوئے دن
کتنی صدیوں میں بکھرتے ہوئے دن
کھڑکیاں کھولتی کمسن صبحیں
بالکونی میں سنورتے ہوئے دن
خواب زلفوں پہ سجائے راتیں
رنگ ہر خواب میں بھرتے ہوئے دن
آسماں صرف ہے آنگن جتنا
چھت پہ چپکے سے اترتے ہوئے دن
بند کمروں میں کھلی تنہائی
چونکتے،سوچتے،ڈرتے ہوئے دن
کسی انگڑائی سے رکتی سانسیں
یونہی بے وجہ ٹھٹھرتے ہوئے دن
شہر آلودگی سے پاک ہوئے
بھیگتے،دھلتے،نکھرتے ہوئے دن
—————
محمود شام کے شکریہ کے ساتھ

Comments are closed.