اور تو کچھ نہیں کرونا نے

(شہزادؔ احمد شیخ)

اور تو کچھ نہیں ’’ کرونا ‘‘ نے
گھر میں رہنا سِکھادیا سب کو
وہ جو رونق تھے محفِلوں کی کبھی
اب وہ مِلتے ہیں اپنے گھر شب کو
ہیں کرونا کے وار سب کے لیے
دیکھتی یہ نہیں ہے منصب کو
لا رہی ہے یہ اپنی خاطر میں
نہ کِسی چال کو نہ کرتب کو
وہ بھی چھت پر ازان دینے لگے
یاد کرتے نہیں تھے جو ربّ کو
ہے گھڑی یہ بھی آزمائش کی
مولا دے گا نِجات ہی سب کو
تو بھی شہزادؔ کوئی گِریہ کر

Comments are closed.