ہے میرا عشق دھرتی سے، محبت خیز انساں ہے

(انیس احمد)

ہے میرا عشق دھرتی سے، محبت خیز انساں ہے
وبا نے دور کر ڈالا ، وفا آمیز انساں ہے
سمجھ آئی جنہیں وہ اپنے گھر میں بند بیٹھے ہیں
زمانے کا چلن کہتا ہے کہ تبریز انساں ہے
کھلے ہیں پھول ، موسم ہے بہاروں کا ابھی باقی
ہوا مجھ سے ہے بولی کہ جہاں لبریز انساں ہے
مجھے تتلی یہ کہنے آئی ہے کہ آئو گلشن میں
حیات افروز لمحے اور دل آویز انساں ہے
سبھی اک جیسے ہو جائیں تو یہ دنیا بھی جنت ہو
کہیں پر خاک سا لہجہ ، کہیں مہمیز انساں ہے
انیس احمد! بسا اوقات جو ہوتا ہے دنیا میں
سمجھ آتی نہیں کچھ کہ نظر آویز انساں ہے

Comments are closed.