اِک نگاہِ لطف بہرِمصطفے

(ڈاکٹرانیس الرحمان)

لوگ گھرمیں عرصہءفرقت میں ہیں
فون پراب رابطے شدّت میں ہیں

اِک وباۓ ناگہاں کیا آ گئ!
سارے انساں خوف میں،وحشت میں ہیں

تَھم گیا جیسے نظامِ زندگی
کاروباری،دفتری فرصت میں ہیں

ایک ہی صَف میں ہیں سارے آج کَل
مردوزن، پیروجواں عِدّت میں ہیں

خوب ہیں یہ کوششیں انسان کی
سب اِدارے رات دِن حرکت میں ہیں

دیکھ کرعزمِ صمیم انسان کا
خودوبائیں بھی تواب حیرت میں ہیں
*
اے خداۓ لَم یَزَل، سب رونقیں!
بس! تِرِے ہی سایہءرحمت میں ہیں

اِک نگاہِ لطف بہرِ مصطفے’!
مشکلوں کے حل تِرِی قدرت میں ہیں

Comments are closed.