بچنے کی نہیں اب کوئی تدبیر ہے یا ربّ

(سَیَّد مُنَّورعلی وفا)

بچنے کی نہیں اب کوئی تدبیر ہے یا ربّ
ہر لفظِ دُعا اشک سے تحریر ہے یا ربّ

دُنیا میں ہر اک خوف سے سہما سا ہوا ہے
بچہ یا جواں بوڑھا ہو دلگیر ہے یا ربّ

میں واسطہ دیتا ہوں تجھے پیارے نبیؐ کا
ہاں جنکیؐ شفاعت بڑی اکسیر ہے یا ربّ

ہے کون یہاں تیرے سوا داد رسی کو
ہاتھوں میں تیری سب کی تقدیر ہے یا ربّ

اس آس پہ لکھتا ہے وفاؔ شعر دُعا کا
بخشے کا تو ہی جو میری تقصیر ہے یا ربّ

Comments are closed.