کچھ اس لیے بھی میں چپ ہوں صدا کے موسم میں

(طاہر حنفی)

غزل
کچھ اس لیے بھی میں چپ ہوں صدا کے موسم میں
کہ زیرِ ہجر ہوں اب کے وفا کے موسم میں
تمہاری آنکھ کی افسردگی سے ٹوٹ گیا
وہ ایک سپنا بنا تھا، انا کے موسم میں
مری خطاؤں کو مالک مرا معاف کرے
اٹھائے ہاتھ ہیں اپنے دعا کے موسم میں
نہ امتحان پہ اب امتحان لے مولیٰ
کہ سجدہ ریز ہوئے ہیں جزا کے موسم میں
اجالا نور کا پھیلا ہے آسمانوں پر
زمیں کا رنگ بھی بدلا دعا کے موسم میں
شجر نے اوڑھ لیاہے غلافِ برگ نو
کہ برگِ خشک پریشاں ، ردا کے موسم میں
میں خالی ہاتھ تری بارگہ میں آ پہنچا
کرم ہو مجھ پہ خدایا ،عطا کے موسم میں
مری نوا میں تو مت ڈھونڈ مفلسی کا عکس
پڑی ہے سب کو ہی اس ابتلا کے موسم میں
زمیں پہ بوجھ تھا طاہر مرے گناہوں کا
خدا کو یاد کیا ہے وبا کے موسم میں

Comments are closed.