گلے بھی ملنا نہیں ہاتھ بھی ملانا نہیں

(ممتاز فاطمہ کاظمی )

گلے بھی ملنا نہیں ہاتھ بھی ملانا نہیں
اعزہ اقربا کو گھر پہ اب بلانا نہیں

نظر بند ہیں ہم اپنے گھر میں ہی یارو
یہ بات سارے زمانے کو تم بتانا نہیں

طواف, کعبہ بھی رکوادیا گیا آخر
یہ راز کیا ہے یہ پردہ ابھی اٹھانا نہیں

ڈریں وہ لوگ کہ جو رجس میں رہے تا عمر
جو پاک صاف رہے ان کو تم ڈرانا نہیں

صفائی نصف ہے ایمان سب پی جانتے ہیں
ہے کون کل کا کل ایمان یہ چھپانا نہیں

چند ایک روز میں یہ خوف جلد ہوگا ختم
یہ خوف جان ہی لے گا ہمیں سنانا نہیں

سبھی کو جانا ہے دنیا سے ایک دن ممتاز
سدا کسی کا یہاں مستقل ٹھکانا نہیں

Comments are closed.