کورونا سے بچنا ہے تو

(غلام زہرا)

ذرا سر گوشیاں تو سنو
او! اسے تو کھانسی ہے
قریب نہ جانا اس کے
انفیکشن بخار بھی ہو سکتا ہے
ارے! اب کیا ہوگا
سوال و جواب کا وقت نہیں
بس نکلے نہ کوئی گھر سے
آئسولیشن میں جانا ہوگا
زیادہ سوچو نہیں
کورونا سے بچنا ہے تو
ہاتھ دھونے ہیں بار بار
ماسک لگانا ہوگا
یاد رہے آنکھیں چرانا نہیں
سانس لینے میں ہو رکاوٹ
گھبرانا نہیں
ایمولینس کو بلانا ہوگا
شعور چوکنا ہوگیا ہے
یا احساس آگہی ہے کوئی
انجانے اندیشوں کی لے پر
دھڑکنے والے دلوںکو سنبھالنا ہوگا
زندگی کی دھڑکنیں لاانتہا ہیں
مگر وقت بہت کم ہے
جنگ شدت سے جاری ہے
ڈٹ جائو مگر لڑنا ہوگا
کورونا سے بچنا ہے تو
اے سادہ و معصوم زندگی
جھوٹے ایمان کے پھندے میں جکڑی ہوئی
رنگین فریبوں کے پھندے سے نکلنا ہوگا
لوک ڈائون نے کیا ہے کاروبار بند
افلاس کی چکی میں پسے ہووؤں
کے لئے تدبیروں کا جال بُننا ہوگا
بھائی بھائی سے تو
بہن رہے بہن سے دور
بیوی شوہر سے نالاں
تو بچے حیران و پریشاں
یہ فاصلہ عارضی ہے
جنگ شدت سے جاری ہے
دائمی تعلق کبھی ختم نہیں ہوتا
ہر ایک کو سمجھانا ہوگا
تاریخ انسانی کا دائمی دھارا
یونہی بہتا ہے
کمزور پر زور آور کا غلبہ
سدا سے
شاید آج بھی کہیں کوئی بے گناہ
اندھے رواجوںکی بھینٹ چڑھاناہوگا
اس بات کو جاننا ہوگا
قدرت کو جوش جو آیا
ساری طاقتیں زیر ہوگئیں
نمرود و فرعون کا انجام جو ہوا
آج پھر تاریخ کا یہ سبق یاد کرانا ہوگا

Comments are closed.