ہوش ہم کو سبھالنا ہو گا

(پرفیسر سید جاوید حیدر تدمزی)

ہوش ہم کو سبھالنا ہو گا
خود ہی مشکل کو ٹالنا ہو گا
کیا کرونا بگاڑ سکتا ہے
خوف دل سے نکالنا ہو گا
فرش والوں کو جا نب سدرہ
ہر دعا کو اچھالنا ہو گا
جو کڑا وقت اج ہے آیا
حوصلے سے گزارنا ہو گا
منزلوں کے حصول میں ہم کو
اپنی نسلیں سنوارنا ہو گا
اسم آعظم جو نام حیدر ہے
صدق دل سے پکارنا ہو گا
اس شب تار کو جاوید حیدر
خون دل سے اجالنا ہوگا

—–

من کا موسم کسی غبار میں ہے
زندگی یاس کے حصار میں ہے
گھر سے باہر عجب ہے سناٹا
ہر کوئ خوف کے دیار میں ہے
تو ہی مالک فقط سہارا ہے
ورنہ انساں کہاں قرار میں ہے
یہ وبا ٹال دے مرے مولا
یہ سبھی تیرے اختیار میں ہے
اب تو ا جایے ء مرے مہدی ء
یہ جہاں سارا انتظار میں ہے
بزم ہستی اجڑ گئ لیکن
سارا عالم ابھی خمار میں ہے
خواب سارے بکھر گے ء جاوید
لمہ لمہ مرا فشار میں ہے

Comments are closed.