اک مصیبت آسمانی اور ہم

(دبیر عباس)

غزل

اک مصیبت آسمانی اور ہم..
خشک اشکوں کی روانی اور ہم..

کیا سنائیں حال اپنا، دوستو.
دور پھر ہے امتحانی اور ہم..

دیکھنے کی حد تلک تو ٹھیک ہیں..
یہ بظاہر صاف پانی اور ہم..

نوجوانی سے بڑھاپا آگیا..
نا مکمل ہے کہانی اور ہم..

ساتھ اپنے سب یہاں رہ جائیں گے..
موت ہو گی نا گہانی اور ہم..

اشتراکاتِ مقدر پہ بہم..
رو رہے ہیں رائیگانی اور ہم..

Comments are closed.