زندگی

(منصف ہاشمی)

نثری نظم۔

دلفریب کبوتروں سے۔۔۔خمار میں ڈوبی فاختاؤں تک۔۔۔!
زندگی اپنے ہونے کااحساس دلاتے ہوئے۔۔۔!
الہام کی رگوں میں ۔۔۔ خواب کی تاثیر میں سمائی رہتی تھی۔
شفق کی بالیاں پہن کر۔۔۔!
بہار کی سبز سرخ چوڑیاں پہن کر۔۔۔۔!
روح میں سمائی رہتی تھی۔
اب قاتل وبا کے دنوں میں !
ہوائیں بھی دشمن بن گئیں ہیں۔
شام و سحر دل۔۔۔!
ہجر کے درد میں ڈوبا اذیت میں تڑپتا رہتا ہے۔
اے میری بہار۔۔۔!
تجھے یاد کرتے ہوئے۔۔۔!سفید فرشتوں کو دعائیں دیتا رہتا ہے۔
سونی گلیوں، ویران بازاروں میں۔۔۔!
بچھڑنے والوں کے غم میں روتا رہتا ہے۔

Comments are closed.