اے رب ذوالجلال

(کاشف عرفان)
نظم……. اے رب ذوالجلال
کچھ اس طرح سے ٹوٹی ہے منطق کی بھاری ڈھال
مٹی میں مل رہا ہے یہ انسانیت کا مال
ویران ہو گۓ ہیں سبھی شہر خوش خصال
اب بے کمال ہیں وہ تھے جتنے بھی با کمال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

پہلا قدم تھا چاند پہ، مریخ کا سفر
تسخیر آسمان بنا تھا مرا ہنر
بندوں کی بے کسی پہ کہاں تھی مری نظر
تجھ کو بھلا دیا ہے یہی ہے مرا ملال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

کشمیریوں کا خون بہا میرے سامنے
آگے نہیں بڑھا میں فلسطیں کو تھامنے
شام و یمن کو کیا دیا میرے کلام نے
برما کی رونقیں بھی نہ میں کر سکا بحال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

طاقت کا زعم، میری تباہی کا راستہ
سمجھا میں سود کو ہی کمائی کا راستہ
بھولا ہوا تھا اپنی بھلائی کا راستہ
اب اک وباء سے دیکھ مرا کیا ہوا ہے حال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

تیرے بناۓ سارے اصولوں کو روند کر
منزل کوئ نہیں ہے یہ بے راہ بر سفر
تاریکیوں میں گم ہوں نہیں ہے کہیں سحر صیاد پھنس گیا جو بنایا تھا اس نے جال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

تو لا شریک رب ہے، تو ہی بے مثال ہے
ہر سو جہاں میں آج ترا ہی کمال ہے
اس موت سے بچالے یہی اک سوال ہے
تجھ کو میں چھوڑ بیٹھا یہی ہے مرا زوال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

کوئی نہیں ہے جس سے ملاؤں میں ہاتھ اب
اک خوف ناگہاں ہے مرے ساتھ ساتھ اب
ہم سے مسافروں کو ہے جنگل میں رات اب
سر پر دھرا ہوا ہے گناہوں کا ایک تھال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

تقسیم انبساط کو محدود کر دیا
ہر راہ روشنی کو بھی مسدود کر دیا
بانٹی ہے بھوک رزق کو محدود کر دیا
افریقیوں کے پاس ہے دولت یہ خال خال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

بے وجہ قتل ہونے لگے ہند کے جوان
مسجد جلا دی کون وہاں دے گا اب اذان
طوفاں شدید اور پرانا ہے بادبان
اک خوف میں ہے ہندی مسلماں کا بال بال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

دنیا کا امن ہونے لگا جس سے تار تار
صنعت میں ہے جو گولہ و بارود کا شمار
دینے لگی سبق یہی توپوں کی ہر قطار
کمزور کے لئے ہوا جینا یہاں محال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

موسم کی سختیوں میں ہے رشتوں کا ہر چمن
سجدے میں گر گیا ہے یہ دنیا کا بانکبن
بندوں کو مل گیا تری جانب سے یہ سخن
تیری نظر میں ہے مرے مولا ہر ایک چال
توبہ قبول کر اے مرے رب ذوالجلال
اے رب ذوالجلال

Comments are closed.