اے خدا بھوک کیوں بنائی تھی

(محمد نوید مرزا)

اے خدا بھوک کیوں بنائی تھی؟

بھوک سے رو رہے ہیں بچے بھی
اور بڑے صبر کرنے والے ہیں
خود پہ یہ جبر کرنے والے ہیں
اے خدا رحم ان غریبوں پر
رو رہے ہیں جو اب نصیبوں پر
ان کے منہ میں کوئی نوالہ ہو
زندگی بخش اِک حوالہ ہو
اے خدا ہم گناہ گاروں پر
اپنی رحمت کا آج سایہ کر
اس وبا کے سُلگتے موسم میں
درد کی ساعتیں پکارتی ہیں
دُکھ میں چہرے سوال کرتے ہیں
دشت غُربت میں لوگ پوچھتے ہیں
کیوں حیات اتنی آزمائی تھی
اے خُدا بھُوک کیوں بنائی تھی؟

Comments are closed.