نیستی کے لمحوں میں

(ظفر منصور)

سنو پہچان سے محروم لوگو
ہوائے زرد کی اس حشر ساماں زد میں آئے
خوف آسا وسوسوں …
وہم و گماں اور بے یقینی میں گھرے لوگو
میرے لوگو ۔۔۔
میرے پیارے سبھی لوگو
یقیں رکھو !
نئے موسم نئے دن کی بشارت لے کے آئیں گے
نئے موسم کہ جب پہچان کے تابندہ لمحے
صحیفوں کی طرح چہروں پہ اتریں گے
تمہیں پہچان بخشیں گے
ہوا کی تتلیاں
اشجار کے پیراہنوں کو رنگ بخشیں گی
فضاو’ں کو نیا آہنگ بخشیں گی
زمیں پر پھر سے
رنگ و نور کی فصلیں اگیں گی
آشتی کے پھول مہکیں گے
مگر یہ شرط ہے دیکھو
نئے موسم کے آنے تک
تم اپنے نیستی کی زد میں آئے
خستہ چہروں کی
اکائی کو
بکھرنے سے بچا رکھنا
نئے دن آنے والے ہیں
نئے موسم نئے دن کی بشارت لے کے آئیں گے

Comments are closed.