ابھی کچھ دےر گھر مےں اور رہ لو

(ڈاکٹر مظہر عباس رضوی)

ابھی کچھ دےر گھر مےں اور رہ لو
جو تنہائی مےں تم خود سے ملو گے
تو اپنے آپ پر خود بھی کھلو گے
ےہ درد انگےز راحت آج سہہ لو
ابھی کچھ دےر گھر مےں اور رہ لو
ہوا بھی سانس اب لےنے لگی ہے
گلوں مےں اےک نئی خوشبو بسی ہے
خوشی سے صاف پانی کہہ رہا ہے
مرا بھی پےراہن اجلا ہوا ہے
کہ اب چشمے ندی درےا سمندر
دکھائےں اپنی چھب سب بن سنور کر
طےور خوش نوا اڑتے ہےں ہر سو
ہوئے روشن نئے فطرت کے پہلو
کثافت کا سفر گھٹنے لگا ہے
کہ رشتہ روح سے جڑنے لگا ہے
ابھی تم بالکونی مےں ہی ٹہلو
ابھی کچھ دےر گھر مےں اور رہ لو

Comments are closed.