اے کرونا خدا کے واسطے ٹل

(ڈاکٹر مظہر عباس رضوی)

اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
ڈاکٹر مظہر عباس رضوی
رک گئی زندگی کی سب ہلچل
وائرس لاےا جب پےام اجل
اےک پل مےں نکل گئے کس بل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
دُکھ گےا ہے بدن بھی سو سو کے
گل گئے ہاتھ سارے دھو دھو کے
اب تو چلّا رہا ہے گھر کا نل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
چھےنکنے سے بھی اب تو لگتا ہے ڈر
ہو نہ جائے کہےں کوئی مرڈر
رُک مرے نزلے ، اے زُکام سنبھل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
ہم بہاروں مےں ےرغمال ہوئے
بال بڑھ بڑھ کے اب وبال ہوئے
لوگ کہنے لگے ہمےں پاگل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
اپنے اشکوں سے ہاتھ دھوتے ہےں
ہونی شادی تھی جن کی روتے ہےں
جو ڈبل تھے وہ ہو گئے سنگل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
پےٹ آگے نکلتا جاتا ہے
وےٹ دےکھو تو بڑھتا جاتا ہے
اب تو کھا کھا کے ہوگئے ہےں ڈبل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
وہ بھی ہےں جن کے گھر مےں فاقے ہےں
مال سب انن کا لُوٹ کھاتے ہےں
اور بناتے ہےں اپنے اپنے محل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل
تھا کبھی دل کرےنہ ، کترےنہ
اب تو ےہ ہوگےا قرنطےنہ
کفِ افسوس سے تو ہاتھ کو مَل
اے کرونا خدا کے واسطے ٹل

Comments are closed.