اے خدا اے خدا

(وسیم جبران)

نظم

اے خدا اے خدا !
تیرے بندوں پہ ہے وقت کتنا کڑا
اک وبا ہے، سزا ہے یا کچھ اور ہے
ساری دنیا میں دہشت ہے پھیلی ہوئی
آدمی آدمی سے ہے ڈرتا پھرے
موت چاروں طرف گھومتی پھر رہی
لاشیں کتنی گریں کتنے اجڑے ہیں گھر
اس نے مشرق کو چھوڑا نہ مغرب بچا
سب کلیسا، حرم، دیر تالوں میں ہیں
ہم تو بے بس ہیں، عاجز ہیں، رنجور ہیں
تجھ سے شرمندہ ہیں، تجھ سے ہم دور ہیں
اپنی دانش سے کچھ کر بھی سکتے نہیں
کتنے ناداں ہیں ہم کتنے مجبور ہیں
ہم کو ہے یہ خبر ہم تو کمزور ہیں
شکر کرتے ہیں پھر بھی کہ ہم ہیں ترے
ہم نگاہیں اٹھاتے ہیں تیری طرف
مانگتے ہیں فقط تیری رحمت سدا
بخش دے تو ہماری خطائیں سبھی
تیرے بندے ہیں ہم تو ہمارا خدا
ایک تو ہی ہمارا سہارا خدا
بس یہی التجا، رحم کر اے خدا
اپنے بندوں کو سب آفتوں سے بچا
اے خدا اے خدا

Comments are closed.