خنجر سی لگ رہی ہے شمشیر لگ رہی ہے

(میجر اعظم کمال (ر))

خنجر سی لگ رہی ہے شمشیر لگ رہی ہے
ہر سانس مجھ کو اب تو اِک تیر لگ رہی ہے

بکھری ہوئی ہے ہر سُو قاتل وَبا کرونا
مجھ کو تو زندگانی نخچیر لگ رہی ہے

لکھی ہوئی ہے اب تک قرطاسِ خواب پر جو
مجھ کو تو وہ بھی تیری تحریر لگ رہی ہے

سورج میں کیوں ہے کالک سورج کی ہر کرن میں
نفرت بدوش شب کی تاثیر لگ رہی ہے

ہر گھر ہی قید خانہ محسوس ہو رہا ہے
مجھ کو تو یہ َوبا بھی زنجیر لگ رہی ہے

روٹھی ہوئی خوشی اب شاید کہ مان جائے
دیوارِ غم پہ میری تصویر لگ رہی ہے

اُمید کی کرن اب یارب کوئی دکھا دے
ساری زمین مجھ کو دلگیر لگ رہی ہے

یا رب معاف کر دے تجھ سے ہی مانگنا ہے
تیری رضا ہی اب تو اکسیر لگ رہی ہے

میں خود کو پیر جب سے کہنے لگا ہوں اعظم
یہ ساری دنیا مجھ کو بے پیر لگ رہی ہے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.