قرنطینہ

(راحل بخاری)

کوئی سسکی سنائی دی رہی ہے
بنفشی دھند سے کس نے پکارا
جہاں میں ہوں وہاں تو صرف میں ہوں
مگر جنگل بھی تو ہے

سنو جنگل کی سسکی سن رہے ہو
سنو یہ بین، یہ دلدوز لہجہ
سنو یہ چیخ جو چپ کا لبادہ اوڑھتی ہے
سنو یہ کرب میں گندھی ہوئی بے ربط سانسیں
مگر سننے کو کوئی دوسرا بھی چاہیے ہے
جہاں میں ہوں وہاں تو صرف میں ہوں
مگر تنہا نہیں ہوں

ہوا ہے،
ہوا جو سانس بن کر چل رہی ہے
ہوا آواز بن کر گھل رہی ہے
ہوا بھوری ہوا جو اب نظر آنے لگی ہے

شجر ہے
شجر دھرتی کا بیٹا
شجر جو روشنی ہے
شجر طوطے کا گھر ہے
شجر چڑیا کی امید
شجر حمد خدا ہے
شجر کاٹا گیا ہے

گلہری اور شجر کی دوستی ہے
گلہری رو رہی ہے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.