اپنے رب کو پکار کر روئے

(ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش)

اپنے رب کو پکار کر روئے
صاحبِ دل شب و سحر روئے

منہ جو سب نے خدا سے پھیر لیا
کیوں نہ انسان دربدر روئے

کم نصیبی سی کم نصیبی ہے
لوٹ آئے دعا ، اثر روئے

خوف ایسا کہ خوف خوفزدہ
اس قدر ڈر کہ آپ ڈر روئے

خشک آنکھوں سے بحر و بر ٹپکے
دل بھی سنگلاخ تھے ، مگر روئے

اس کی ناراضگی ہے اب کے شدید
ورنہ کتنے ہی دیدہ ور روئے

بے خبر غفلتوں میں غرق رہے
اس کی رحمت سے باخبر ، روئے

اشک آنکھوں سے کب یہ بہتے تھے
عفو و بخشش کا سوچ کر روئے

رحم کر ! رحم کر ! سبھی ذی قدر
گر کے سجدوں میں رات بھر روئے

کب سزاوارِ رحم تھے ہم لوگ
رونے والے پر اس قدر روئے

داستاں دلخراش ہے اتنی
سننے والے اِدھر اُدھر روئے

اس قیامت کو ٹالنے کے لیے
اب کے لازم ہے ، ہر بشر روئے

اس کے آگے ہے اب مری فریاد
جس کے آگے ابو البشر روئے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.