لوگ کہتے ہیں وبا ہے یہ وبا کا وقت ہے

(اقتدار جاوید)
غزل

لوگ کہتے ہیں وبا ہے یہ وبا کا وقت ہے
یہ گھڑی مشکل کی ہے مشکل کشا کا وقت ہے!!

شہر کو کھا جانے والی ہے یہ میناروں کی چپ
کوٸی نوبت ہے نمازوں کی قضا کا وقت ہے

صبحِ کاذب کی سحر انگیزیاں داٸم وہیں
کوٸی دریا ہے اندھیرا ہے خدا کا وقت ہے

دن نکلتا ہے ابھی تک اک حیات آثار دن
آسمانوں پر ستارے ہیں ثناء کا وقت ہے

اک ذرا توضیح جس کی ہو نہیں سکنی ابھی
مری مٹھی میں ابھی کوٸی بلا کا وقت ہے

پاٶں رکھتے ہیں اٹھاتے ہیں پلٹ آتے ہیں ہم
رہگذر پر ایک انجانی صدا کا وقت ہے

پھیلتی جاتی ہے اک بے ہیتی چاروں طرف
یہ دعا کا وقت ہے یہ بددعا کا وقت ہے

درمیاں میں دوسری ساعت کا امکاں تک نہیں
ابتدا کا وقت ہے اور انتہا کا وقت ہے

اہلِ دنیا پر بھروسے کا کوٸی یارا نہیں
یہ عراقِ زندگانی ہے رثا کا وقت ہے!!

Bookmark the permalink.

Comments are closed.