ہر شخص ہے سہما ہوا آفات کے ڈر سے

(وسیم عباس)

ہر شخص ہے سہما ہوا آفات کے ڈر سے
جاں جیسے نکلتی ہے ، نکلتے ہوئے گھر سے

ہر سمت نظر آتے ہیں ویرانی کے منظر
مفلوج ہوئی زیست کرونا کے اثر سے

مسجد ہو کہ مندر ، وہ کلیسا ہو کہ معبد
آئے نہ صدا کوئی اِدھر سے نہ اُدھر سے

اب صبحِ طلب کی نہ شبِ وصل کی خواہش
بیگانہ ہوئی خلقِ خدا شام و سحر سے

اب کوئی عزیزوں سے گلے مل نہیں سکتا
لوٹے ہوں وہ چاہے کسی صحرا کے سفر سے

لے سکتا نہیں اُس کا بھی اب پیار سے بوسہ
ملتا تھا سکوں درد میں جس نُورِ نظر سے

اب ہم سے جنازوں میں بھی شرکت نہیں ہوتی
اب راہ نہیں ملتی کسی راہ گزر سے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.