اُمید فردا

(سعیدہ بانو بلوچ)
جیون دی آس
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساں محتاط رہ کے اینکوں دنیا توں مٹا گھِنسوں
اے خطرے دی علامت ہے جیندا جو ناں کرونا ہے
جیہڑھا ہتھیں کنوں لگدے تے سنگھ ایندا بچھونا ہے
ایں وائرس نوعِ انساں کوں بنا گھِدا کھلونا ہے
جے گھر وچوں ہی نہ نکلوں تاں ساڈے لو اے سونا ہے
سماجی دوری رکھ کے وی اساں سب دی دعا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
کرونا توں بچن سانگے گھریں اِچ لاک تھی ونجو
اقارب تے عزیزیں توں منڈھوں ہی عاق تھی ونجو
اینجھا بند کر گھنو خود کوں جو بالکل کاک تھی ونجو
ہٹھے ویلے ہتھیں کوں دھو کے وائرس پاک تھی ونجو
خدا دی جے مدد ہوسی اوکھی گھڑی لنگھا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
کرونا توں جے بچنا ہے تاں آئسولیٹ کر گھِنو
بہوں مُد لو نِسے آہدے تھوڑا تاں ویٹ کر گھِنو
کمیں کاریں دی پرواہ نئیں انھیں کوں لیٹ کر گھِنو
نہ نکلو ، نہ ہی آون ڈیو، بند اپنا گیٹ کر گھِنو
کرونا توں بچن سانگے بس اپنا دَر ولا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں

تساں خود کوں گھریں اپنیں دے وچ محصور رکھ گھِنو
کرو کوشش جو ہک بئے توں ہتھیں کوں دور رکھ گھِنو
حفاظت اِچ میڈے پیارے اکھیں دا نور رکھ گھِنو
ایں دنیا اِچ ملی جو ہے ایہا ہی حو ر رکھ گھِنو
رُسیمیں دور کرکے ہی محبت دااَلا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساڈے ڈاکٹر ، نرساں اتے سارا طبی عملہ
معالج ہن ڈینہاں راتیں جیڑھا کیتے وبا حملہ
پولیس ای ہے روکیندی پئی جیڑھا پھِردا ودے کملا
وبا روکن دی کاوش اِچ حکومت دا اُچا شملہ
امید ہے قوم ہک تھیسی تے ساریں کوں رَلا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اے غافل! ہُن خدا کولوں ایہا فریاد کر گھن توں
جیویں تھیوی جتھاں تھیوی خدا کوں یاد کر گھِن توں
خدا دے ذکر توں بانؔو اے دل آباد کر گھِن توں
تے من کوں مار کے ڈوجھیں دے من کوں شاد کر گھِن توں
توبہ زاری تے سجدے کرکےرب اپنا منا گھِنسوں
کرونا دی وبا کولوں ایں دھرتی کوں بچا گھِنسوں
اساں محتاط رہ کے اینکوں دنیا توں مِٹا گھِنسوں

—————–

اُمید فردا
(اردو ترجمہ)

o کرونا کی وبا سے پاک وطن کو بچا لیں گے ، احتیاط کے سبب ہم پوری دنیا سے اسے ختم کر دیں گے۔
o کرونا وائرس خطرے کی علامت ہے جو ہاتھوں سے ایک دوسرے تک پھیلتا ہے اور گلے تک جا پہنچتا ہے جس کی وجہ سے نوع انسان انجانی پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں اور اس پریشانی کے سبب گھر میں رہنا ہے سماجی دوری سے ہی ہم ایک دوسرے کو بچا لیں گے ۔
o کرونا سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو مکمل لاک کر دیں گے رشتہ داروں اور عزیزوں سے نہ ملیں بار بار ہاتھوں کو دھوئیں تاکہ ہاتھوں پر لگا وائرس اتر جائے۔اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس مشکل گھڑی سے نکل آئیں گے۔
o کرونا سے بچنے کے لیے میں پھر کہوں گی کہ آپنے آپ کو بند کر لیں۔ کچھ عرصے کے لیے خود کو بند رکھیں تاکہ وائرس نہ پھیلے ۔ شعبہ زندگی میں کام کاج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہیں موخر کر دیں۔ آنے جانے کے لیے گھروں کے دروازے بند کر دیں۔
o ایک دوسرے سے ملنے کے لیے خود کو گھروں میں محصور کر لیں ۔ ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملائیں۔ ہاتھوں کو چہرے تک نہ لے جائیں اور اہل خانہ کے ساتھ وقت گزاریں ۔ آخرکار ساری رنجشیں دور ہی ہو جائیں گی۔
o سارے ڈاکٹر ، نرسیں اور پورا طبی عملہ اس بیماری کے خلاف شب و زور سرگرم عمل ہیں ان کے ساتھ ساتھ پولیس کے جوان بھی اس وائرس کے خاتمے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں ۔ حکومت ہی کی کوشش سے یہ سب ممکن ہے میں امید کرتی ہوں کہ پوری قوم یک جان ہو کر اس کا خاتمہ کرے گی۔
o اے غافل! اب صرف اللہ تعالیٰ سے ہی فریاد کی جائے ۔ تمام انسان ذکر الٰہی میں وقت گزاریں یعنی خدا کے ذکر سے ہی دلوں کو آباد کریں اور جہاد بالنفس سے ہی دوسروں کو شاد کر سکتے ہیں ۔ اب ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا جائے تاکہ موذی وائرس سے بچا جا سکے۔

Bookmark the permalink.

Comments are closed.