مزے کے دن ہیں

(عمران عامی)

گھروں میں بیٹھے ہیں
اور دفتر میں حاضری بھی لگی ہوئی ہے
کسی کا پرچہ بھی کَٹ چُکا ہے
کسی کی عرضی پڑی ہوئی ہے
فقیر شاہوں کے ساتھ گَپیں لگا رہے ہیں
جو ہونے والا نہيں ہے اُن کو بتا رہے ہیں
بتا رہے ہیں کہ بادشاہت ” جمہوری مُلکوں ” میں بے اثر ہے’ مُضِر نہيں ہے

سب اُس پہ بَغلیں بجا رہے ہیں

مزے کے دن ہیں

ہر ایک مسجد کے گیٹ پر یہ لکھا ہوا ہے
یہاں حکومت خُدا سے ملنے پہ معترض ہے
سو گھر پہ رہیے
خُدا کو کمروں میں یاد کیجے
نمازیں پڑھیے ‘ اذانیں دیجے

ثواب لیجے

مزے کے دن ہیں

یہاں ضرورت سے کچھ زیادہ ہی رَش لگا ہے
قیامت آنے میں چار دن ہیں تَنور والا بتا رہا ہے
بتا رہا ہے کہ روغنی نان کھانے والا بھی سُوکھی روٹی پہ آ رہا ہے

اور اُس پہ ہنس کر دِکھا رہا ہے

مزے کے دن ہیں

وہ چھت پہ بیٹھی ہے اور میں ٹیرس سے دیکھتا ہوں
وہ ہر منٹ بعد اپنے ہاتھوں کو دیکھتی اور سُونگھتی ہے
اُسے کہیں سے پتا چلا ہے کہ سُونگھنے اور چَکھنے والی حِسیں اگر کام کر رہی ہوں
تو سمجھیں کوئی مرض نہيں ہے
وہ اپنے بچوں کو ہاتھ دھونا سِکھا رہی ہے
جو خوش نہيں ہیں

وہ اُن کو رونا سِکھا رہی ہے

مزے کے دن ہیں

ابھی ابھی اِک حسِین لڑکی جو شاپروں سے ڈھکی ہوئی تھی
گزر گئی ہے
محلے والے بتا رہے ہیں اُسے *کرونا* نہيں تھا لیکن
وہ مر گئی ہے

اور اُس پہ کوئی خبر نہيں ہے

مزے کے دن ہیں

مگر دنوں میں مزا نہيں ہے

……………
نوٹ : (مقامی تلفظ ” جموری ” دانستہ برتا گیا ہے)

Bookmark the permalink.

Comments are closed.