گُل جیسے گُل دان کا رستہ چھوڑ گئے

(فخرلالہ)

گُل جیسے گُل دان کا رستہ چھوڑ گئے
جب سے تم مُلتان کا رستہ چھوڑ گئے

دیواروں کی قید میں ہیں دیواروں سے
کمروں سے دالان کا رستہ چھوڑ گئے

بستی کے سب لوگ خُدا کی کھوج میں تھے
جانے کیوں انسان کا رستہ چھوڑ گئے

رفتہ رفتہ سب یاروں سے دور ہوئے
جیسے جسم اور جان کا رستہ چھوڑ گئے

سورج، چاند، ستارے اب بھی روشن ہیں
تم ہی روشن دان کا رستہ چھوڑ گئے

وہ بھی اپنا آپ بچا کر چلتے ہیں
ہم بھی اب طوفان کا رستہ چھوڑ گئے

ایک وبا کا خوف تھا دوجی تنہائی
ہونٹ یہاں مسکان کا رستہ چھوڑ گئے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.