وقت کی دہلیز پر

(شبانہ یوسف)

زندگی کی ضمانت بنے
خامشی، چارسو پھیلتی بے کراں
بستی بستی نگر در نگر
بکھری ویرانی کے سنگ رقصاں
ہر آنگن میں اُتری ہوئی زرد رُو بدلیاں
بے یقینی کی بےکل فضاؤں میں سہمی ہوئیں، زندگی کی حسیں تتلیاں
دیکھتے دیکھتے
اَن گنت رنگ یک رنگی میں ڈھل گئے
خیمہءِجاں میں اُلجھنے لگیں سانس کی ٹوٹتی ڈوریاں
اور عجب رسمِ چارہ گری کی چلی
اک وبا ہے، کوئی اجنبی سی بلا ہے، جسے دیکھ کر
اپنے بھی، رستے اپنے بدلنے لگے
وقت کی مرگ انگیز دہلیز پر
سارے منظر رفاقت کے جلنے لگے
ہاں فقط، خواب آسا یہ آنکھیں مری
وقت کے ہجر آمیز آئینے پر
لکھ رہی ہیں نڈر
زندگی سے بھری
سبز رُت کے حسیں چہرے کی داستاں
ہے یقیں ہم ملیں گے اسی وقت کے دائرے میں
پھر اک بار ہستے ہوئے
ٹوٹ جائیں گی خاموشیاں ۔

Bookmark the permalink.

Comments are closed.