کرونا تیرا ککھ نہ رئے

(سلیم اختر)

اپنی ہیں اب یہی دعائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے
سانپ اور بِچھُّو تُجھ کو کھائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

تیرے گھر میں آگ لگے تو سب کچھ تیرا سڑ بل جائے
پھر سڑکوں پر دھکے کھائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

تیری ساری عمر ہی گزرے ”قرنطینہ“ کے چکر میں
رہے نہ کوئی دائیں بائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

گھر میں رہ کر جوئیں پڑجائیں تیرے سَر کے بالوں میں
مکھیاں مچھر تجھے ستائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

تجھ کو ڈوب کے مرنے کو بھی ملے نہ پانی ہرگز
مٹی میں ہی غوطے کھائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

تیرے گھر میں ڈاکہ پڑ جائے لُٹ جائے ساری کمائی
کرتا پھِریں تُو بھائیں بھائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

پُولس کے ہاتھوں اک دن تیری ایسی ہو چھترول
چوک میں جاکر چِھتّر کھائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

گھر میں رہتے رہتے تیرا مُک جائے راشن پانی
نیٹ کے پیکج ختم ہو جائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

مار کے آدھی دنیا کو بھی تجھے موت نہ آئی
تُجھ کو بھی ہم مار گرائیں کرونا تیرا ککھ نہ رئے

Bookmark the permalink.

Comments are closed.