گھروں میں قید ہیں تو کیا، چلو یہ کام کرتے ہیں

(سرفراز تبسم)
غزل

گھروں میں قید ہیں تو کیا، چلو یہ کام کرتے ہیں
خدا سے دل لگاتے ہیں محبت عام کرتے ہیں

محلے کی وہ اک لڑکی جسے بس دیکھ سکتے تھے
اسے لکھ کر کوئی چٹھی ہوا کے نام کرتے ہیں

نہ گھر کی فکر ہوتی تھی نہ بچوں کے مسائل تھے
چلو اب دوستوں کے نام کوئی جام کرتے ہیں

یہ کیسا وقت آیا ہے گھروں میں دل لگایا ہے
محبت کے ترانوں کو ستارہ بام کرتے ہیں

نئے اس دور میں ہم نے نئے کچھ کام کرنا ہیں
مسیحا کے لیے آؤ کہیں اک شام کرتے ہیں

تری خدمت اگر ہے تو مرا بھی فرض بنتا ہے
محبت دوستی خدمت تجھے انعام کرتے ہیں

نہیں ہے فکر کوئی بھی اگر روٹی نہیں گھر میں
چلو سجدے میں جا کر ہم خدا کو رام کرتے ہیں

کرونا کی وبا کو ہم جڑوں سے کاٹ دیتے ہیں
خلافت میں چلو آؤ زرہ کہرام کرتے ہیں

Comments are closed.