ہوا کی کوکھ

(ثروت زہرا)

قرنطینہ

ہوا کی کوکھ
ٹھنڈی مٹی کے بوجھ سے
دوہری ہورہی ہے
خوف تاریک کمروں سے نکلنے والے
سارے راستے مسدود کرچکا ہے
حوصلے جراثیم کش ادویات کے
بھاؤ تاؤ میں مصروف ہیں
کونپلوں نے سبز روشنی سے
ہاتھ ملنے کے ارادے ترک کردیے ہیں
دلوں کی انگیٹھیوں میں پڑی ہوئی
سرخ بھبوکا آگ سرمئی راکھ میں بدلنے لگی
فاصلے ضرب کے آزمودہ فارمولے آزمانے لگے
تنہائی چپ چاپ پڑٰ ی اگلے دنوں کی منصوبہ بندی کرنے لگی
نحوست نے چوباروں کے پیر زخمی کردیے
موت کی دھیمی چاپ سے
سماعتیں بھس کی طرح بھردی گئیں
مگر میں۔۔۔۔تمہارے
صرف تمہارے ساتھ قرنطینہ میں جانا چاہتی ہوں

Comments are closed.