یہ زندگی ہے دوستو یہ پھر سے مسکرائے گی

(کامران امین)

طویل تر سہی مگریہ شب گزر ہی جائے گی
یہ زندگی ہے دوستو یہ پھر سے مسکراے گی
بڑھے چلیں جو قافلے یقین کا علم لیے
انھیں کہے گی مرحبا یہ پاس خود بلائے گی
منڈیر پر رکھا ہوا اک دِیا امید کا
بتا رہا ہے، تیرگی سدا شکست کھائے گی
قدم قدم بلائیں ہیں نگر نگر وبائیں ہیں
کوئی بلا ہو یا وبا مجھے ہرا نا پائے گی
میں چل پڑا ہوں گھر سے جب تو منزلوں پہ ہے نظر
یہ بے بسی یہ تیرگی تو حوصلہ بڑھائے گی
الم تو ہیں قدم قدم میں جانتا ہوں پیچ و خم
اے زندگی بتا مجھے تو کتنا آزمائے گی

Comments are closed.