وصال اب تک مہک رہا ہے

(ازہر ندیم)

میں دوریوں سے پرے کھڑا ہوکے سوچتا تھا
نظر پہ جب امتحان کا کوٸ وقت ہو گا
بدن کو قربت نہیں ملے گی
یہ لمس بے اختیار ہو کر جو فاصلوں کا شکار ہوگا
مشامِ جاں میں جب ایک خوشبو نہیں رہے گی
ہر ایک جانب فراق ہو گا
تو تب بھی چاہت کے پھول من میں کھلے رہیں گے
تو تب بھی یادوں کے سلسلے سے فضا معطر ہوا کرے گی
تب اسکی تصویر مجھ سے آکے بہت سی باتیں کیا کرے گی
تب اس کے رنگوں کی تتلیوں سےکلام ہوتا رہا کرے گا
میں دوریوں کی زمیں پہ ہوں اب
جو سوچتا تھا
وہی ہوا ہے
نہ لمس اس کا نصیب ہے اب
نہ اس سماعت میں نغمگی کا سوال کوٸ
نہ دید کا کوٸ فوری امکاں
مگر یہ جذبوں کی جاودانی بتا رہی ہے
مرا یقیں راٸیگاں نہیں ہے
جداٸیوں کی اداس رت میں
مجھے محبت کوٸ کہانی سنا رہی ہے
نٸے شگوفوں کی آس لے کر
وصال اب تک مہک رہا ہے

Comments are closed.