سماجی فاصلہ

(انیس احمد)

سماجی فاصلہ
سماجی فاصلہ بڑھ کو زیادہ ہو گیا ہے
ارادہ کب تھا لیکن باارادہ ہو گیا ہے
ملیں کس سے ، کہیں کوئی نظر نہ آئے اپنا
یہ چاہا کب تھا بس ہم سے مبادا ہو گیا ہے
ابھی امید ہے کہ لوٹ آئیں گے وہی حالات آخر
ابھی تنہائی ہے پر دل کشادہ ہو گیا ہے
بیوٹی پارلر ہیں بند ، اور سب مارکیٹیں بھی
مری بیگم کا چہرہ کتنا سادہ ہو گیا ہے
جنہیں تھا زعم طاقت پر وہاں ہے موت ناچے
بڑا کہلانے والا گھٹ کے آدھا ہو گیا ہے
بدن خاکی تھالیکن جو خدا سمجھے تھا خود کو
کرونا کے وہ ڈر سے خاک زادہ ہو گیا ہے
انیس احمد ! محبت کا الم لہرائے رکھنا
بھلے تنہا ہے رہنا ، یہ اعادہ ہو گیا ہے

Comments are closed.