ہر ایک اذیت بھی اذیت نہیں ہوتی

(ناصر منگل)

ہر ایک اذیت بھی اذیت نہیں ہوتی
جو سب کیلئے ہو وہ مصیبت نہیں ہوتی

تم لاکھ محبت کرو فطرت پہ مرو بھی
فطرت کے تو سینے میں محبت نہیں ہوتی

یہ راز بتایا ہے کرونا نے خود آ کر
ہر جلسے میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی

انسان کو انسان ڈسا کرتے ہیں اکثر
یہ حبس قرنطینہ میں صورت نہیں ہوتی

کیوں عین بہاروں میں ہیں سہمے ہوئے شاعر
کیا عہد کرونا میں محبت نہیں ہوتی

اب خواب میں ملنا بھی حقیقت میں ہے ملنا
ملنے کی حقیقت میں تو ہمت نہیں ہوتی

جس شخص کے نزدیک توکل ہے یہ جیون
ڈر کر اسے مرنے کی ضرورت نہیں ہوتی

وہ یاد بھی کر سکتا ہے اس عہد وبا میں
ہر چھینک کرونا کی علامت نہیں ہوتی

کچھ لوگ قیامت سے کہاں ڈرتے تھے ناصر
اب ان کو ڈرانے کی ضرورت نہیں ہوتی

Comments are closed.