کرونا چیز کیا ہے

(نصیر بلوچ)

کرونا چیز کیا ہے ؟
ایک بے وقعت و لا وارث ‘ حقیر و ناتواں دشمن
تو پھر یہ خوف کی تہمت ہم اپنے پاک دامن پر کبھی لگنے نہیں دیں گے
سمجھنے کی ضرورت ہے مرے اہلِ وطن سمجھو !
عدو اتنا اپا ہج ہو فقط اک دو قدم
چلنے کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو
تو پھر کیوں اپنے دست و پا کی خود بیساکھیاں دے کر
اسے پیوست جاں کر لیں
اصولوں کے منافی ہے
وطن کے باسیوں اور ہم نشینوں سے تمسخر ہے
حماقت ہے نا ! پوروں کے توسل سے اسے ہم جسم کے اندر
نظامِ زندگی برباد کرنے کی اجازت دیں !
کیوں اپنے ان دھلے ہاتھوں سے چہرے ‘ ناک اور مونہہ کو ادائے بے نیازی سے کریں خجلی ؟
یہی اک لمس ہی تو ہے جو رستہ ہے کرونا کا
بھلا سوچو مناسب ہے ؟
اٹھا کر دشمنِ جاں کا لبادہ زیبِ تن کر لیں
یا اپنی ناز پروردہ ہتھیلی پر سجا کر کوچہ و بازار تک لائیں
اب ایسا ہو نہیں سکتا حقیقت کھل گئی اس کی
ہماری قوم اس سے جنگ کا اعلان کرتی ہے
اجل کے خوف کو مل کر بے برگ و بار کر دیں گے
کرونا کی سبھی نسلوں کو ہم سنگسار کر دیں گے
اسے زنجیر کر کے قیدِ تنہائی میں رکھیں گے
قرنطینہ میں یا پھر چار دیواری میں رکھیں گے
اگر یہ واہیات و بد چلن آزاد ہوجائے !
صف ِ ماتم بچھے اور زندگی برباد ہو جائے !
حماقت ہے اور ہم ایسی حماقت کر نہیں سکتے
غلامِ مصطفےٰ ہیں اس کے ہاتھوں مر نہیں سکتے

Comments are closed.