مصروف ہوں گےسارے ہی بیکار ایک دن

(محمد علی منظر)

غزل
مصروف ہوں گےسارے ہی بیکار ایک دن
سیر چمن کو جائیں گے سب یار ایک دن

انسان کے کمال سے چہکے گا یہ جہاں
مٹ جائیں گے زمین سے آزار ایک دن

چہکار سے پرند کی گونجے گا گلستاں
اچھی خبر سنائیں گے اخبار ایک دن

ٹوٹےگا جب طلسم تو بیدار ہوں گے لوگ
بھر جائیں گے یہ کوچہ بازار ایک دن

خالی گلی ہے دور تک اک بھی نفس نہیں ملنے ضرور آئیں گے سب یار ایک دن

اب تو خزاں کا راج ہے بادسموم ہے
پھولوں سے بھر ہی جائیں گےاشجار ایک دن

Comments are closed.