استغاثہ

(سَیَّد مُنَّورعلی وفا)

سَیَّدی یا حبیبیؐ مولائی
کیجیئےکیجیئےمسیحائی

ہم کو رنج و الم نے گھیرا ہے
ہرطرف بس دکھوں کا ڈیرا ہے
راہ میں دور تک اندھیرا ہے
کیجیئےکیجیئے رہنمائی
سَیَّدی یا حبیبیؐ مولائی

غم کے بادل سروں پہ چھائے ہیں
اپنی قسمت کے ہم ستائے ہیں
مُُدّتوں سے نہ مُسکرائے ہیں
چِھن گئی زندگی سے رعنائی
سَیَّدی یا حبیبیؐ مولائی

بےسہاروں کا تمؐ سہارا ہو
ڈوبتوں کا تمؐ ہی کنارا ہو
تمؐ ہی سُنتے ہو جب پُکارا ہو
سب پہ اب تو کرم ہو مولائی
سَیَّدی یا حبیبیؐ مولائی

ہرطرف قَہراب خُدا کا ہے
مرحلہ اب فقط دُعا کا ہے
بس یہ ہی مُدّعا وفاؔ کا ہے
سب سے بڑھکر تمہاری سُنوائی
سَیَّدی یا حبیبیؐ مولائی

Comments are closed.