یہاں اب زندگی کے دن کڑے ہیں

(احمد سعید سروش)

یہاں اب زندگی کے دن کڑے ہیں
سبھی کو جان کے لالےپڑے ہیں

ذرا آہستگی سے سانس لینا
ہوا میں موت کے نیزے گڑے ہیں

چھپے ہیں لوگ سب اپنے گھروں میں
کہ دروازوں پہ اب تالے پڑے ہیں

وبا کا توڑ کچھ ملتا نہیں ہے
سبھی انسان اب حیراں کھڑے ہیں

کہیں خطرے میں ہیں وہ ہی زیادہ
کسی بھی گھر میں جو سب سے بڑے ہیں

رہیں سب سے علیحدہ بہتری ہے
یہاں تفریق کے اولے پڑے ہیں

مسلسل ہاتھ دھونا بہتری ہے
اسی میں فائدے سب کے بڑے ہیں

جہاں ملنے ملانے میں تھی راحت
وہاں تنہائی کے جھنڈے گڑے ہیں

سروش اللہ کی ہےناراضی ساری
جو دن ہم پر مصیبت کے پڑے ہیں

خدا معبود ہے سب سے بڑا ہے
محمد سب رسولوں سے بڑے ہیں

Comments are closed.