اے میرے دل غم نہ کر

(منصف ہاشمی)

نثری نظم.
اے میرے دل غم نہ کر…!
ماہی بے آب کی طرح نہ تڑپ…!
یہ جو آج موسم وبا کی وجہ سے خاک اوڑ کر سورہا ہے.
کل یہی موسم شبنمی چاندنی کے ساتھ آئے گا.
شاداب پھولوں کی جوانی شبنم سے وضو کرے گی.
عشق زادوں پر وجد طاری ہوجائے گا.
خوشبو میں بسی ہوائیں کرنوں سے گلے ملیں گی.
لسان خواب کے لہجے میں…!
سوسن نسترن کا وظیفہ عام ہوجائے گا.
غم نہ کر…اے میرے دل…!
معصوم تبسم,شاداب طلسم کا موسم ضرور آئے گا.

Comments are closed.