اگر بچ گئے تو

(نذر عابد)

اگر بچ گئے تو
کسی کو سنائیں گے
یہ نظم اپنی
کہ جس میں
بچھڑ جانے والوں کے
چہروں پہ بکھری ہوئی
نا اُمیدی کی
اُس راکھ کو
کچھ سمیٹا گیا ہے
کہ جس میں
اُمید اور مسرّت کی چنگاریاں
جل بجھی ہیں
اگر بچ گئے تو
کسی کو سنائیں گے
یہ نظم اپنی
جو اک آئینہ ہے
کہ جس میں
بنی نوعِ انساں کے
وہ دکھ جھلکتے ہیں
جو بے بسی
اور لاچاریوں کے
کڑے اور سفاک موسم کے ہاتھوں
بہت جاں فشانی سے
ہم نے سہے تھے
اگر بچ گئے تو
کسی کو سنائیں گے
یہ نظم اپنی
جو رُوداد ہے
رزم گاہِ حیات آفریں کی
جہاں ہم نے
اَن دیکھے دشمن سے
اک جنگ ایسی لڑی تھی
کہ جس کا
ہمیں تجربہ ہی نہیں تھا
اگر بچ گئے تو
کسی کو سنائیں گے
یہ نظم اپنی
مگر بچ گئے تو
یہ کس کو خبر ہے
کہ اس نظم کو پھر
کسی کو سنانے کی ، سننے کی
فرصت بھی کیسے ملے گی
کہ ہم سب
نئی زندگی کے
نئے رنگ ترتیب دینے میں
مصروف ہوں گے
نئے باغ ہوں گے
نئے پھول ہوں گے
سو ہم بھی یقیناً
نئی نظم لکھنے میں
مشغول ہوں گے

Comments are closed.