ان دیواروں میں در نہیں ہے

(محمد منذر رضا)

غزل
ان دیواروں میں در نہیں ہے
محبس ہے یہ، اپنا گھر نہیں ہے
کیا جانیے کیا ہوا چمن میں
شاخوں پہ کوئی ثمر نہیں ہے
ہے غم سے بڑا یہ غم کہ یارو
غم میں کوئی آنکھ تر نہیں ہے
میری بستی کے سب ہوئے ختم
اب دینے کو کوئی سر نہیں ہے
وحشت سے ہوا بھی ڈر گئی ہے
بن میں کوئی ہم سفر نہیں ہے
تنہائیوں میں بھٹک رہا ہوں
قسمت سے کچھ مفر نہیں ہے
اجڑی ہوئی بستیاں بھی دیکھیں
کچھ دل سے خراب تر نہیں ہے

Comments are closed.