شہر آشوب

(قدسیہ ظہور)

نظر اٹھا کے جو دیکھا
کرونا کا ہی رونا ہے
ہر اک آدم پہ طاری ہے
عجب سی بیقراری ہے
ہر اک نے سانس روکی ہے
ہر اک آواز گم سم ہے
نہ کوئی شہر میں ہل چل
نہ بچوں کی ہے کلکاری
گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں
اسی امید پر سارے
کہ مالک کا سہارا ہے
اسی نے اپنی رحمت سے
کرونا کو بھگانا ہے
بیماری کرتی کیا بیمار
سبھی پہ خوف طاری ہے
سبھی سن کر گھروں میں بند ، بیٹھے ہیں
نہ کھانے سے کوئی رغبت
نہ کھائے بن رہا جائے
کسی سے مل نہیں سکتے
کہ آنا جانا ممنوع ہے
اسی بے چارگی میں سب
خدا کے سامنے سر کو
جھکا کے سجدہ کرتے ہیں
ہمیں اس سے بچانا رب
کرونا کو بھگانا رب
ہمیں اپنے کرم سے تو
وبائی آزمائش میں
بچا لینا ، بچا لینا

Comments are closed.