امید زیست دے گی ہر ابتلاء کو مات

(سعید عباس سعید)

وعدہ تھا جن کا ساتھ نبھانے کا تاحیات
اب مل رہے ہیں یوں کہ ملاتے نہیں ہیں ہات

کاغذ قلم ہے اور میرا کمرہ ہے دوستو
مجھ کو خبر نہیں ہے دن ہے یا پھر ہے رات

بس کچھ دنوں کی بات ہے بدلیں گے روزوشب
ہر دن بنے گا عید سا،ہر شب شب برات

چلوشب کی خامشی میں سجدے کریں ادا
مہکائیں خلوتوں کو مولا سے کر کے بات

خوشیوں کی پھر بہاریں لوٹیں گی اے سعید
امید زیست دے گی ہر ابتلاء کو مات

Comments are closed.