چار سو پھیلی ہوئی جو یہ وبا ہے دوستو

(ارشد محمود ارشد)

چار سو پھیلی ہوئی جو یہ وبا ہے دوستو
کیا ہمارے ہی گناہوں کی سزا ہے دوستو

ایک وائرس نے زمانے کو ہلا کے رکھ دیا
سب جہانوں پر تو بس قادر خدا ہے دوستو

اب ہمیں سہنا پڑی ہیں اختیاری دوریاں
یہ ہماری بے بسی کی انتہا ہے دوستو

اس کرونے سے بچاؤ غیر ممکن تو نہیں
موت بھی ہے اک مرض جو لادوا ہے دوستو

ہو سکے تو تم ذرا اب دور ہی مجھ سے رہو
کھانستا اک شخص مجھکو چھو گیا ہے دوستو

چار دن کی زندگانی کا بھروسہ کیا کریں
ہر گھڑی اس کے تعاقب میں قضا ہے دوستو

کام آؤ تم کسی کے اس مصیبت کی گھڑی
رب سے کاروبار کا موقع ملا ہے دوستو

کیا سنائیں داستاں تم کو اجڑتے شہر کی
جس کو دیکھو خوف میں وہ مبتلا ہے دوستو

میں نے تو بس آئینہ رکھا ہے سب کے سامنے
لاکھ تم سمجھو کہ ارشد سر پھرا ہے دوستو

دعا

قہر جو ہم پر مسلط ہے خدا تُو ٹال دے
بستیاں ویران کرتی یہ وبا تُو ٹال دے

یا الہٰی ہم گنہگاروں کے بس میں کچھ نہیں
ہاتھ جوڑے کر رہے ہیں التجا، تُو ٹال دے

ہر طرف بجھنے لگے ہیں زندگانی کے چراغ
سرسراتی ، دندناتی اب ہَوا تُو ٹال دے

اس وبا کی ابتدا ہے میری ارضِ پاک پر
اس سے پہلے وقت کر دے انتہا تو ٹال دے

میرے مولا اُنﷺ سے بڑھ کر کون ہے پیارا تجھے
تجھ کو تیرے مصطفٰےﷺ کا واسطہ تُو ٹال دے

اب گلے ملنا تو کیا ہم ہاتھ چھونے سے گئے
مار دے گی فاصلوں کی یہ سزا تُو ٹال دے

سرنگوں ارشد کھڑا ہے اشک آنکھوں میں لیے
دل کی دھک دھک کر رہی ہے بس دعا تُو ٹال دے

Comments are closed.