وبائی جنگ

(امجد محمود انصاری)

وبائی جنگ
چپ چاپ چل رہی تھی
دنیا سفرِ حیات پہ
کرونا وبا۶ ایسی آئی کہ
اچانک اندھیرے سے چھا گۓ
خود کش حملہ آور سا لگنے لگا
کھانستا چھینکتا اپنا ہی دلِ گوشہ
ہنستے بستے گلشن پت جڑ کی مانند ہو گۓ
رونقیں ہی رونقیں ہوا کرتی تھیں
جہاں شام و سحر دنیا میں
وہ گلیاں محلے ویراں سے ہو گۓ
کیسی عجب سی جنگ چھڑی دنیا میں
بغیر اسلحہ گھر چھپے کامیاب ہوگۓ
چپ چاپ چل رہی تھی
دنیا سفرِ حیات پہ
دورِ جدید کی سائینس علم وحکمت
سامنے کرونا کےسب بے بس سے ہو گۓ
دنیا کے اعلَی تخت و تاج والے سب

Comments are closed.