کچھ دن سے ہواؤں میں ہے اک شوخ تلاطم

(حمیدہ شاہین)

غزل
کچھ دن سے ہواؤں میں ہے اک شوخ تلاطم
بدلا ہے فضاؤں نے بھی اندازِ تکلّم

کچھ خاص ہوئی ہے مِری لَے میں کمی بیشی
ہے ویسے کا ویسا ہی پرندوں کا ترنّم

گُل رنگ بہاروں میں گُھلی ہے وہی مستی
لیکن ہیں کسی اور ہی ترتیب میں ہم تم

خوشبو میں نہاتے ہوئے محتاط ہی رہیے
ہے موج میں فطرت کا مہکتا ہوا قلزم

جس شوخ کی ٹاپوں سے ہے آہنگِ تن و جاں
برسے گا ہتھوڑے کی طرح سر پہ وہی سُم

رستوں میں بھٹکتے ہوئے دیکھے بھی، سَہے بھی
اس بار تو لگتا ہے کہ منزل پہ ہوئے گم

غزل
کسی شے کی نہیں کوئی تلافی، بس معافی
صدائے اشک و خوں ہے بس معافی، بس معافی

ہمِیں پر بارِ عہدِ اوّلیں تھا بادشاہا
ہمِیں سے ہو گئی وعدہ خلافی، بس معافی

ہماری ہی شعوری غفلتیں مہلک ہوئی ہیں
بگاڑے خود یہ باد و آبِ شافی، بس معافی

جوازِ انتشار و سرکشی کچھ بھی نہیں ہے
دلائل اور حیلے ہیں اضافی، بس معافی

جسے احساسِ عصیاں ہی ادھیڑے جا رہا ہو
سزا کے طور پر اس کو ہے کافی، بس معافی

ارادی جہل کے موذی نتائج آرہے ہیں
بقایا عیب رہنے دے غلافی، بس معافی

ہمیں ڈر ہے,ہماری بے بسی سمجھی نہ جائے
ترے قانونِ رحمت کے منافی، بس معافی

نظم
جانے کیا دوڑتھی
تونے کچھ دیر کو
ٹھیرنے, سوچنے کا اشارہ دیا
یا خدا شکریہ
دائیں بائیں سبھی سگنلوں پر جو سرخی کا ہالہ بنا
اُس نیاِس بھاگتی, اپنے رستے کی ہر چیز کو روندتی
تیز رفتار دنیا کو ٹھیرا دیا
گھومتی, شور سے کان بھرتی ہوئی چرخیاں رک گئیں

جانے کیا دوڑتھی
زندگی اپنے پیروں می پہنے ہوئے
اپنی آنکھوں پہ خواہش چڑھائے ہوئیبھاگتے ہی چلے جارہے تھے سبھی
اتنی مہلت نہ تھی
رک کے دیکھیں ذرا
کون پیچھے گرا
کون کچلا گیا
کون پہلو میں ہے
آئینہ دیکھنے کی بھی فرصت نہ تھی
اپنے پیاروں کے چہرے بھی دھندلے سے تھے
ایک چابک بدن پر برستا تھا بس
کچلا جائے گا جو ایک پل بھی رکا

یا خدا شکریہ
تونے جھٹکا دیا
اور اک بار پھر سب کو سمجھا دیا
زندگی کو سدا ساتھ لے کے چلو
ورنہ مر جائے گی.

غزل

رابطے یوں ہوں کہ دل کی روشنی قائم رہے
آس کی لَو تا چراغ ِ آخری قائم رہے

تار یوں جوڑیں کہ جوہر کے تسلسل میں جئیں
فاصلے کتنے بھی ہوں , وابستگی قائم رہے

باہمی رَو منقطع ہونے نہ دیں اک پل کو بھی
آندھیوں میں بھی نظامِ دوستی قائم رہے

گاگریں اُس چشمِ رحمت بار کا ہی دم بھریں
آزمائش کی گھڑی میں بندگی قائم رہے

کچھ دریچے جانبِ امّید وا رکھّیں سدا
کچھ ہوا آتی رہے اور تازگی قائم رہے

لَو لگائیں اور ساری مشعلیں روشن کریں
تیرگی پر آدمی کی برتری قائم رہے

ٹھوکریں کھاتے ہوئے بھی مرکزے پر ہو نظر
گردشوں میں آبروئے محوری قائم رہے

سب شعاعیں اک مقام ِ منتہی ٰ کی دین ہیں
جس کی نسبت سے توانائی مِری قائم رہے

جس کے ہلّے میں کسی رشتے کا خوں ہوتا نہ ہو
وہ خودی قائم رہے, وہ بے خودی قائم رہے

نعرہئِ امّید و ہمّت ہم پہ واجب ہو گیا
حوصلے قائم رہیں تو زندگی قائم رہے

غزل

ابھی تک جو نہیں سمجھے، محبت کیوں ضروری تھی
انھیں دیکھو، سمجھ جاؤ کہ عبرت کیوں ضروری تھی

تجاوز کرنے والوں کو لگامیں ڈال دو بڑھ کر
کبھی فرصت میں سمجھانا یہ زحمت کیوں ضروری تھی

عناصر کے بگڑنے میں تمھارا بھی تو حصّہ تھا
انھی سے پوچھنا، ان کی بغاوت کیوں ضروری تھی

جو عبرت سے نہیں سمجھے، دلائل بھی نہ مانے تو
قیامت خود بتائے گی، قیامت کیوں ضروری تھی

Comments are closed.