تیرا مسجودِ ملاٸک ہے پریشاں مولا

(آصف جواد)

نظم
شہر در شہر ہے اِک حوفِ قضا پھیلا ہوا زندگی جیسے کہ مہمان ہو کچھ لمحوں کی چہرے اُترے ہوے اور آنکھیں ہیں پتھراٸ ہوٸ سانسیں حلقوم میں اٹکی ہوٸ انسانوں کی پپڑیاں ہونٹوں پہ جس طرح پرانی دیوار رنگ و روغن کی قبا تن سے جدا کرتی ہے گردشِ خوں ہے کہ ہاری ہوٸ جیسے کوٸ فوج رزم گاہوں سے سوے شہر مُڑا کرتی ہے حسرت و یاس کی یلغار درونِ سینہ دم بہ دم زور پکڑتے ہوۓ آتی ہے نظر بے بسی پیر جماۓ ہی چلی جاتی ہے بارور ہونے کو آتی ہی نہیں شاخِ ہُنر کپکپاتے

Comments are closed.