زشت نام

(ذو الفقار شاذ)

اسے وفورِ فروغ تو ہے توان و تابِ نمو نہیں ہے
عبث ہوا زشت نام ہے یہ
وگرنہ جاں کا عذاب کب تھا
ہے ہستیِ بے نمود اس کی،
طفیل ماغوں کی،اشتروں اور شب پروں کی
رہا رمندوں ،مضر گزندوں کا بارِسر ہے
ہیں جن کی جو لا ن گاہیں بیشہ ئو نیستاں کی سیہ کچھاریں عفونی غاریں
جہاںسے صیاد،صید کر لائے ،کھانچے بھر لائے
سنا ہے کچھ دام کش سوادِ وو ہاں کے
تہی شکم اور تنگ گزراں
پھرے عریں میںمارے مارے
ملے نہیں موش و مار و ماہی تو جھٹ پٹے میں
قفس وہ خفاشوںسے ہی بھرلائے کہنہ چھتنارکی سیہ کھو ہ سے
طلوعِ فردا وہ زورِ بازار، شو رِ سو دا گراں،تھے زنجیر بستہ حیواں
وہ باز یاراں ،تہی شکم، مفلسی کے مارے
وہ کھانستے ہانپتے خریدار
سواد اور آلت کی ہوس کے حریص وسودائی
نہ ہاتھو ںپر ہی نگاف تھے اور نہ منہ پہ رو بند
یہیں تھے کچھ شوم آشِ خفاش کے رسیا

Comments are closed.